جمعہ 29 مئی 2026 - 21:26
مقتدی صدر کا برطانیہ کے سفیر کے نام سخت پیغام /  لندن حکومت سے سفیر کے حالیہ بیانات پر باضابطہ معافی مانگنے کا مطالبہ

حوزہ / عراق کی قومی شیعہ تحریک کے سربراہ نے بغداد میں تعینات برطانیہ کے سفیر عرفان صدیق کے بیانات پر شدید غم و غصہ اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عراق کی قومی شیعہ تحریک کے سربراہ سید مقتدی صدر نے بغداد میں تعینات برطانیہ کے سفیر عرفان صدیق کے بیانات پر اپنا غم و غصہ اور ناراضگی کا اظہار کیا۔ صدیق نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کا ملک 2003ء کے موسم بہار میں سابقہ حکومت کے خاتمے کے بعد عراق میں شیعوں کے حوالے کر دیا تھا۔

مقتدی صدر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر برطانیہ کے سفیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: اگر شیعوں کا ایک گروپ تمہارے سامنے حاضر ہوا تو ہم ان میں سے نہیں ہیں اور نہ ہی اس دنیا اور آخرت میں کبھی ہوں گے۔

انہوں نے برطانوی سفیر سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ کیا تم بھول گئے کہ تباہ کن آمر اور ڈکٹیٹر کو کس نے لایا؟

انہوں نے مزید کہا: شاید تم بھول گئے کہ اس واحد مقاومت سے تم بھاگ گئے جو تمہارے سامنے کھڑی ہوئی اور اپنے ملک کو تمہارے قبضے سے آزاد کرایا، خاص طور پر صوبہ بصرہ میں۔

مقتدی صدر نے لندن پر الزام عائد کیا کہ وہ ہمیشہ بعثیوں، مداخلت کاروں اور حتیٰ کہ دین، مذہب اور وطن کے دشمنوں کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ رہا ہے اور آج بھی ہے۔ تمہارے چینلز اس بات کی گواہی دیتے ہیں۔

انہوں نے برطانیہ کی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ ان سب کو جلد از جلد عراق کی منصفانہ عدلیہ کے حوالے کرے اور ان کی موجودگی کو "سیاسی اور سفارتی خلا" قرار دیا۔

صدری موومنٹ کے سرپرست نے لندن سے مطالبہ کیا کہ وہ معمول کے سفارتی طریقہ کار کے مطابق سفیر کے حالیہ بیانات پر باضابطہ معافی مانگے اور ساتھ ہی انہوں نے کسی بھی قسم کی خارجی بالادستی کو مسترد کرنے پر بھی زور دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha